رمضان المبارک میں صلوة التراویح میں قرآن کریم کی تکمیل کا سلسلہ جاری

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 28-04-2021
دارالعلوم  دیوبند
دارالعلوم دیوبند

 

 

 فیروز خان/ دیوبند

گناہوں سے توبہ اور استغفار کے لئے اللہ رب العزت کی جانب سے امت مسلماں کو عطاءکیا گیا تحفہ ماہ رمضان المبارک کے دوسرے عشرہ میں مسجدوں مدرسوں اور نجی مقامات پر صلوة التراویح میں قرآن کریم کی تکمیل کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔اسی کڑی میں دارالعلوم زکریا کی مسجدمیں صلوة التراویح میں قرآن کریم مکمل کےاگیا۔

دارالعلوم زکریا دیوبند کے شعبہ محاسبی کے انچارج قاری فرخ عظیم نے پندرہویں شب میں قرآن پاک مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی جبکہ تراویح میں سامع کے فرائض ادارہ کے شعبہ محاسبی کے خازن قاری سلمان نے بحسن و خوبی انجام دئے ۔تکمیل قرآن کریم کے موقع پر ادارہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد شریف خان قاسمی نے کورونا سے نجات ،عالم اسلام کی سلامتی اور ملک میں امن وامان کی دعاءکرائی انہوں نے اپنے ایمان افروز بیان میں قران کریم کو پابندی سے پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم اللہ ذوالجلال کا زندہ کلام ہے قرآن کریم پڑھانا نہ صرف ثواب ہے بلکہ اللہ رب العزت قرآن پڑھنے والے کی ہر دعا سنتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قرآن اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرتا ہے ۔قرآن انہیں قیامت کے روز بخشوائے گا ان کی مغفرت کی سفارش کرےگا ۔انہوں نے کہا کہ وہ خوش نصیب ہیں جو قرآن کریم پڑھتے ہیں ان کی سفارش قرآن روز محشر کریگا اور جو لوگ نہیں پڑھتے ان کی شکایت بھی قرآن کریم کرےگا ۔مولانا مفتی محمد شریف خان قاسمی نے کہا کہ دو طرح کے لوگوں کی طرح ہمیں بننا چاہئے ایک وہ جسے قرآن اچھا پڑھنا آتا ہے اور اسکی تلاوت کرتا ہے ۔دوسرے وہ دولت مند جو راہ خدا میں دولت لٹاتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کریم ہر عورت و مرد کو پڑھنا چاہئے قرآن پڑھنے سے رحمت کے دروازے کھلتے ہیں رحمتیں برستی ہیں ۔ہمیں چاہئے کے دین کی طرف بچوں کو راغب کریں انہیں اسکول کالجوں میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ قرآن کی تعلیم بھی ضرور دلائیں ۔تاکہ دین کی روشنی حاصل کر سکیں انہوں نے کہا کہ خوش نصیب وہ لوگ ہیں جو قرآن کو سیکھتے اور سکھاتے ہیں اللہ نے قرآن کریم کو اسی ماہ مبارک میں پوری انسانیت کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے جو تا قیامت ہدایت کرتا رہےگا ۔اس مو قع پر مسجد کے پیش امام سمیت ادارہ کے ذمہداران ،اساتدہ و ملازمین موجود تھے ۔